{brother syed hasni wrote here, and i quote}


ان (عمر) کا اجتہاد آزاد اور با جرات تھا وہ اگر کسی بات کو درست سمجھتے یا خلافت کے

مفاد میں تو اسے بے دھڑک اختیار کرلیتے تھے ، چاہے ایسا کرنے میں سنت رسول (ص)

اور عمل صدیق کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی ، اگر حالات کا تقاضا ہوتا تو وہ قرآن کے

ضابطوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے

(حضرت عمر فاروق کے سرکاری خطوط ، ص 25 ، ناشر ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور )


his (umar’s) ijtihad was free and brave, if he thought something to be correct or in interest of government, he opted it without hesitation even if it was against sunnah of prophet and actions of abu bakar ; if it was the demand of situation, he would ignore even the rules of quran

(hazrat umar key sarkari khatoot, page 25)

[that is, official letters of umar, page 25)

here are the scans


ان (عمر) کا اجتہاد آزاد اور با جرات تھا وہ اگر کسی بات کو درست سمجھتے یا خلافت کے مفاد میں تو اسے بے دھڑک اختیار کرلیتے تھے ، چاہے ایسا کرنے میں سنت رسول (ص) اور عمل صدیق کی مخالفت ہی کیوں نہ کرنی پڑتی ، اگر حالات کا تقاضا ہوتا تو وہ قرآن کے ضابطوں کو بھی نظر انداز کر دیتے تھے

(حضرت عمر فاروق کے سرکاری خطوط ، ص 25 ، ناشر ادارہ اسلامیات انار کلی لاھور )