we find sunni scholar abu bakar hasas saying

حسن بصری ، سعید بن جبیر ، شعبی اور تمام تابعین ان ظالم (حکمرانوں) سے وظیفے

لیتے تھے لیکن اس بناء پر نہیں کہ وہ ان سے دوستی رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو

جائز تصور کرتے تھے ، بلکہ اس لئے لیتے تھے کہ یہ تو ان کے اپنے حقوق ہیں جو ظالم

و فاجر لوگوں کے ہاتھ میں ہیں .ان سے دوستی کی بنیاد پر یہ کام کیسے ہوسکتا ہے

حالانکہ انہوں نے حجاج سے تلوار کے ذریعے مقابلہ کیا .چار ہزار قراء (علماء) نے ، جو

تابعین میں سے بہترین اور فقہاء تھے، عبدالرحمان بن محمد بن اشعث کی قیادت میں حجاج

سے اھواز کے مقام پر جنگ کی ، پھر بصرہ اور بعد ازاں کوفہ کے قریب فرات کے کنارے

دیر جماجم کے مقامات پر حجاج سے جنگ کی ہے.انہوں نے عبدالملک بن مروان کی بیعت

توڑ دی تھی ،ان (اموی حکمرانوں ) پر لعنت کرتے اور ان سے تبرا کرتے تھے .ان سے

پہلے کے لوگوں کا معاویہ کے ساتھ بھی یہی طریقہ تھا ،جب وہ حضرت علی علیہ السلام

کی شہادت کے بعد زبردستی حکمران بن گیا ،امام حسن اور امام حسین (ع) بھی (معاویہ

سے) وظائف لیتے تھے اور اس زمانے کے صحابہ کرام کا بھی یہی طریقہ کار تھا بلکہ اس

(معاویہ) سے اسی طرح تبرا کرتے تھے ،جس طرح حضرت علی (ع) معاویہ سے تبرا

کرتے تھے حتیٰٰ کہ اللہ تعالیٰٰ آپ (ع ) کی وفات کے بعد جنت و رضوان میں لے گیا .چنانچہ

(ان ظالم حکمرانوں) کی طرف سے عہدہ قضا قبول کرنے اور وظائف لینے میں یہ دلیل نہیں

ہے کہ یہ حضرات ان ظالموں سے دوستی رکھتے تھے اور ان کی حکومت کو جائز اعتقاد

کرتے تھے


احکام القرآن //ابوبکر جصاص // ج 1 //ص 86//سورۃ البقرۃ ،آیت : لا ینال عہدی

الظالمین //طبع ثانیہ 1424ھ ، دارالکتب العلمیہ بیروت

hasan basri, saeed bin jubair, shobi, and all the tabaeen took scholarships from these cruel (rulers), not because they

accepted his government or considered it correct, but because they considered it their right in the hands of these cruel sinners. how can this be on the basis of friendship when they fought hajjaj; 4000 qurra (plural of qari/reciters of quran) who were the best fuqaha of tabaeen, fought hajjaj at ahwaz under leadership of abdur rehman bin mohammad bin ashath; then at basra and later on near kufa along the bank of furat at der jamajm; they broke the bayat of abdul malik bin marwan; and curse and did tabarra at them (ummayyads). this was the attitude of those before them as well with mawia when he became caliph by force after the death of hazrat ali asws. imam hasan and imam husseein also took scholarship (from mawia); and this was what other companions also did; but they did tabarra on mawia just like hazrat ali did tabarra on him till the time allah took him to paradise (that is, martyrdom of mola ali). so accepting the status of judge or getting scholarships from them is not a proof for them accepting their governments to be correct.

[ahkam ul quran, abu bakar hasas, vol 1, page 86]

===============================================================

======================================================================

======================================================================

this is translation from urdu work of brother syed hasni

Advertisements