Question

میں فضائل اعمال پڑھ رہا تھا ، اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بادل سے آنے اور اپنا دست مبارک ایک غیر محرم عورت کے چہرے اور پیٹ پر پھرنے کا واقعہ پڑھا جس میں اس کی بیماری ختم ہوگئی ۔ میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غیر محرم عورت کے چہرے اور پیٹ کو چھو سکتے ہیں؟ نیز بادل سے آپ کا آنا مجھے مثل افسانہ لگتاہے۔ براہ کرم،اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

I was reading the boo, Fadail us A’amaal, and read the incident of Holy Prophet (asws) coming from clouds, and rubbing His Hand on face and abdomen of Non-Mahram lady, which cured her. I want to know is it allowed that He touches the face and abdomen of a Non-Mahram lady? Also, it feels like a story that He can from clouds. Please guide me

Answer

فتوی: 1687-613/L=12/1433

حالت حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی اور امتی کا غیرمحرم کے چہرے اور پیٹ کو چھونا جائز نہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بیعت نہیں کیا۔ آدمی شریعت کا مکلف حینِ حیات تک ہی رہتا ہے، سوال میں جس واقعہ کا تعلق ہے وہ حیاتِ برزخی سے متعلق ہے اس لیے اس واقعہ کو ظاہری شریعت کے متصادم مان کر اس کو غلط اور جھوٹا کہنا صحیح نہیں، یہ اس لڑکے کی دعاء کا اثر تھا جو اس نے اپنی ماں کے لیے کی تھی، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ اولیاء اللہ سے کرامت کا ظہور ممکن ہے، آدمی کو اگر اس طرح کے واقعات سمجھ میں نہ آئیں تو سکوت اختیار کرنا چاہیے، اس طرح کے واقعات افسانہ وغیرہ سے تعبیر کرنا حد درجہ جہالت ہے، واضح رہے کہ یہ واقعہ خود حضرت نے اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ نزہة کے حوالہ سے لکھا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اہل سیر وتواریخ نے ایسے واقعات پر اعتماد کیا ہے، ان کے ذہنوں میں ایسے اشکالات پیدا نہیں ہوئے جو اتنے زمانے کے بعد اب پیدا ہورہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ کرامت وغیرہ کی چیزوں کو ظاہر پر پرکھنا ہی صحیح نہیں اور جنھوں نے بھی معجزات وکرامات کو ظاہری نگاہ سے پرکھنے کی کوشش کی وہ گمراہ اور صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ کی توفیق نصیب فرمائے۔

It is not allowed to touch the face and abdomen of a Non-Mahram lady by Holy Prophet or anyone else when they are alive. That is why He never took bayat of a lady by touching her hands. But one remains under domain of Shariat only in life. The incident which is being point to in Question, that belongs to life of Barzakh, and rejecting it by comparing it to the apparent Shariat, is not correct. It was the effect of that prayer by boy which he made for his mother. Ahlu Sunnah hold this Aqeeda/belief that it is possible for Aulia of Allah to show Karamat. If one cannot understand them, it is better to keep silent. It is extreme ignorance to term the story like. Keep in mind that Hazrat did not mention this incident on his own, rather referenced it to Nuzhat. Which means that People of Lifestories and Hisotry accpted it. It did not created questions in their minds, which are now being raised. Truth is that it is not fine to judge Karamat etc on apparent view. Whosoever tried to judge karamat on apparent view, they lost true path, and became misguided. May Allah give us correct understanding.

 

kara

 

 

Advertisements